دہلی میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ کے کمرے میں آگ پر قابو پا لیا گیا

 دہلی کے جودھ پور ہاؤس میں وزیر اعلی بھجن...

بھارت نے نئی نسل کی آکاش میزائل کا کامیاب تجربہ کیا

ڈی آر ڈی او نے نئی نسل کی ’آکاش...

تلنگانہ حکومت نئی برقی پالیسی لانے کا فیصلہ کرتی ہے

تلنگانہ حکومت نے نئی برقی پالیسی لانے کا فیصلہ...

یوپی اسمبلی انتخابات: بہوجن سماج پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کے درمیان اتحاد کے امکانات

آئندہ سال ہونے والے یوپی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تمام سیاسی پارٹیوں نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اسی کڑی کے تحت بی ایس پی، ایس بی ایسی پی اور اے آئی ایم آئی ایم کے درمیان اتحاد کی چہ می گوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔

لکھنو: اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تمام سیاسی پارٹیوں نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ یوپی اسمبلی انتخابات کے تحت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)، سابق کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر کی قیادت والی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایسی پی) اور حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے درمیان اتحاد کی چہ می گوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔

مصدقہ ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق یہ تینوں پارٹیاں آئندہ انتخابات کے لئے ’بھاگیدار سنکلپ مورچہ‘ کے بینر کے تلے اکٹھا یوسکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان تینوں پارٹیوں کے اشتراک سے بننے والے ’بھاگیداری سنکلپ مورچہ‘ میں دیگر چھ۔وٹی پارٹیوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایس بی ایس پی کے سربراہ راج بھر کے مطابق و دیگر متعدد پارٹیوں بشمول آل انڈیا ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی وغیرہ کو ملا کر بی جے پی کے خلاف ایک موثر فرنٹ تیار کرنے کی کوشش میں ہیں۔

مایاوتی اور اسد الدین اویسی کے درمیان کئی مرحلوں میں بات چیت

ذرائع کے مطابق بی ایس پی سپریمو مایاوتی و اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی کے درمیان کئی مرحلوں میں بات چیت ہوچکی ہے۔ اسدالدین اویسی اگلے ماہ لکھنو آکر اتحاد کو کوئی حتمی شکل دے سکتے ہیں۔

یوپی میں سال 2017 کے انتخابات میں ایس بی ایس پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے 8 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے۔ جس میں اس کے 4 امیدواروں کو کامیابی ملی تھی جس کے بعد راج بھر کو یوپی کابینی وزیر بنایا گیا تھا۔ لیکن سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے عین قبل وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے انہیں اپنی کابینہ سے ہٹا دیا تھا۔

مشرقی یوپی میں اپنی زمین مضبوط کرنے کے لئے ایس بی ایس پی نے اسی سال جنوری میں ایم آئی ایم سے اتحاد کا اعلان کیا تھا اور ایم آئی ایم صدر و رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے راج بھر کے ساتھ اعظم گڑھ، جونپور اور پوروانچل کا دورہ کیا تھا۔

مسٹر اویسی نے یوپی میں سال 2022 کے اسمبلی انتخابات میں اپنی پارٹی کے لئے زمین ہموار کرنے کے مقصد سے مزید آٹھ پارٹیوں سے بھی ہاتھ ملایا ہے۔ جن میں کرشنا پٹیل کی اپنا دل، جن ادھیکاری پارٹی اور چندر شیکھر راون آزاد کی سماج پارٹی قابل ذکر ہیں۔ جو بظاہر مسلم، پسماندہ اور دلتوں کی کہکشاں بنتی دکھائی دیتی ہے۔

ان پارٹیوں کے ذریعہ قائم اتحاد سے اپنا دل کنارہ کشی اختیار کرنے کے درپے

ذرائع سے موصول اطلاع کے بعد ان پارٹیوں کے ذریعہ قائم اتحاد سے اپنا دل کنارہ کشی اختیار کرنے والی ہے اور خبروں کے مطابق بی جے پی سے اس کی ڈیل مثبت راستے پر ہے۔ امکانات ہیں کہ پارٹی کے صدر کرشنا پٹیل کو یوپی قانون ساز کونسل کا رکن بنادیا جائے۔

گذشتہ سال ماہ اکتوبر میں بہار اسمبلی کے منعقد ہونے والے انتخابات میں مسلمی اکثریتی علاقوں میں ایم آئی ایم کی خاطر خواہ کامیابی نے ایم آئی ایم کے حوصلے بلند کردئیے ہیں۔ اب وہ یوپی میں پوری طاقت سے انتخابی میدان تیار کرنے میں مصروف عمل ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم آئی ایم، بی ایس پی اور ایس بی ایس پی کے اشتراک سے ممکنہ بھاگیہ دار مورچہ اعظم گڑھ اور اس سے ملحقہ اضلاع میں مین اپوزیشن سماج وادی پارٹی (ایس پی) کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے بارے میں بھی عام خیال ہے کہ ملسم اور پسماندہ اور مسلم آبادی ہی اس کا اصل ووٹ بینک ہے جس میں بھاگیہ دار مورچہ سیندھ ماری کرسکتا ہے۔

نام نہ شائع کرنے کی شرط پر ایس پی ایم ایل اے نے بتایا کہ بی ایس پی کے پاس 20 فیصدی ووٹ بینک ہے اور اب اس میں اچانک اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ نیا اتحاد بی جے پی مخالف ووٹوں میں تفریق اور ایس پی کے امیدوں پر پانی پھیر سکتا ہے۔