دہلی میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ کے کمرے میں آگ پر قابو پا لیا گیا

 دہلی کے جودھ پور ہاؤس میں وزیر اعلی بھجن...

بھارت نے نئی نسل کی آکاش میزائل کا کامیاب تجربہ کیا

ڈی آر ڈی او نے نئی نسل کی ’آکاش...

تلنگانہ حکومت نئی برقی پالیسی لانے کا فیصلہ کرتی ہے

تلنگانہ حکومت نے نئی برقی پالیسی لانے کا فیصلہ...

رکن پارلیمنٹ پشوپتی کمار پارس ایل جے پی پارس گروپ کے صدر منتخب

ایل جے پی میں جاری سیاسی ہنگامے کے درمیان، بہار کے حاجی پور سے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پشوپتی کمار پارس آج پارٹی کے قومی صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ مسٹر پارس نے صدر منتخب ہونے کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ ایل جے پی میں کسی طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور اگر اختلاف ہوتا تو وہ بلا مقابلہ منتخب نہیں ہوتے۔

پٹنہ: لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) میں جاری سیاسی رسہ کشی کے درمیان آج بہار کے حاجی پور سے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پشوپتی کمار پارس کو قومی صدر (پارس گروپ) منتخب کرلیا گیا ہے۔

ایل جے پی کے قومی نائب صدر اور پارس گروپ کے ایگزیکٹو صدر سابق رکن پارلیمنٹ سورج بھان سنگھ کی رہائش گاہ پر جمعرات کو قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی۔ لگ بھگ 6 گھنٹے تک میٹنگ چلی۔ میٹنگ میں قومی ایگزیکٹو کمیٹی کے 78 میں سے 56 اراکین موجود تھے۔ اجلاس کے بعد صدر عہدہ کیلئے مسٹر پارس نے پرچہ داخل کیا۔ اس عہدہ کے لئے کوئی اور دعویدار نہیں ہونے کی وجہ سے مسٹر پارس کو بلا مقابلہ منتخب کرلیا گیا۔

اس کے بعد مسٹر پارس کو ایگزیکٹو صدر مسٹر سنگھ نے سرٹیفکٹ عطا کیا۔ مسٹر پارس کے پرچہ داخل کرنے کے وقت رکن پارلیمنٹ چندن سنگھ، وینا دیوی اور محبوب علی قیصر موجود تھے۔ حالانکہ اس دوران پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پرنس راج موجود نہیں تھے۔

مسٹر پارس نے صدر منتخب ہونے کے بعد پریس کانفرنس میں اپنے بھتیجے اور جموئی سے رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان کو تاناشاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب بھتیجہ تانا شاہ ہوجائے گا، تو چچا کیا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایل جے پی میں کسی طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور اگر اختلاف ہوتا تو وہ بلا مقابلہ منتخب نہیں ہوتے۔ ایک کی جگہ کچھ اور پرچے داخل کئے جا سکتے تھے۔

رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ پارٹی کا قومی صدر بناکر پارٹی کے ساتھیوں نے انہیں ایک بڑی ذمہ داری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ بڑے بھائی اور سابق وزیر آنجہانی رام ولاس پاسوان کے خوابوں کو ہر قیمت میں شرمندہ تعبیر کرسکیں۔

مسٹر پارس نے کہا کہ پارٹی 21 سال کی ہوئی ہے اور اب انہیں ایک بڑی ذمہ داری ملی ہے۔ انہوں نے کسی وجہ سے پارٹی چھوڑ کر گئے لیڈران کو پھر سے واپس آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو قومی سطح پر لے جانا ہے اور سماجی انصاف کے تحت پارٹی کو آگے بڑھانا ہے۔