دہلی میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ کے کمرے میں آگ پر قابو پا لیا گیا

 دہلی کے جودھ پور ہاؤس میں وزیر اعلی بھجن...

بھارت نے نئی نسل کی آکاش میزائل کا کامیاب تجربہ کیا

ڈی آر ڈی او نے نئی نسل کی ’آکاش...

تلنگانہ حکومت نئی برقی پالیسی لانے کا فیصلہ کرتی ہے

تلنگانہ حکومت نے نئی برقی پالیسی لانے کا فیصلہ...

دہلی: تالا بندی جاری رہنے کے ساتھ دکانیں بھی کھلیں گی: کیجریوال

کیجریوال نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کووڈ – 19 کے متاثرین میں کمی آنے کے پیش نظر آئندہ ہفتے سے تالا بندی میں مزید مہلت دی جارہی ہے۔ 7 جون سے آڈ-ایون کے طرز پر دکانوں اور شاپنگ مال کو کھول دیا جائے گا اور 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ میٹرو سروس بھی شروع کی جائے گی۔

نئی دہلی: حکومت دہلی نے آج کہا کہ کورونا وائرس کے متاثرین میں تیزی سے کمی آنے کے باوجود مستقبل میں اس کا خطرہ درپیش ہونے کے مدنظر دہلی میں تالا بندی جاری رکھتے ہوئے پیر سے آڈ-ایون کے طرز پر دکانیں اور مال کھولے جائیں گے، جبکہ میٹرو سروس 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ شروع کی جائے گی۔

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کووڈ – 19 کے متاثرین میں کمی آنے کے پیش نظر آئندہ ہفتے سے لاک ڈاؤن میں مزید مہلت دی جارہی ہے۔ 7 جون سے آڈ-ایون کے طرز پر دکانوں اور شاپنگ مال کو کھول دیا جائے گا اور 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ میٹرو سروس بھی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا “ماہرین نے کورونا وائرس کی تیسری لہر کی پیش گوئی کی ہے۔ ہمیں اس کے لئے بھی تیاری کرنی ہوگی”۔

انہوں نے کہا کہ نجی دفاتر 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ کھولے جاسکتے ہیں۔ ضروری سامانوں کی دکانیں روزانہ کھلیں گی۔ نئی رہنما ہدایات کے مطابق سرکاری دفاتر میں گروپ اے کے افسران 100 فیصد اور ان کے نیچے دیگر افسران 50 فیصد صلاحیت میں کام کریں گے۔ لازمی خدمات میں 100٪ ملازمین کام کریں گے۔

وزیر اعلی نے کہا کہ معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانا ضروری ہے۔ فیکٹری اور تعمیراتی سرگرمیاں گزشتہ ہفتہ سے کھول دی گئی ہيں۔ پچھلے 24 گھنٹے میں تقریبا 400 متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے اور 0.5 فیصد انفیکشن کی شرح ہے۔ پیر کی صبح 5 بجے سے متعدد دیگر سرگرمیوں میں رعایت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر تیسری لہر آتی ہے تو حکومت اس کے لئے تیار ہے۔ گزشتہ روز تقریبا چھ گھنٹے تک دو الگ الگ ملاقاتوں میں حصہ لیا اور ماہرین سے گفتگو کی۔ اس بار کورونا کی پیک میں تقریبا 22 ہزار متاثرین 22 یا 23 اپریل کو سامنے آئے تھے۔ اگلی پیک 37 ہزار کی ہوسکتی ہے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیاری شروع کردی گئی ہے۔