دہلی میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ کے کمرے میں آگ پر قابو پا لیا گیا

 دہلی کے جودھ پور ہاؤس میں وزیر اعلی بھجن...

بھارت نے نئی نسل کی آکاش میزائل کا کامیاب تجربہ کیا

ڈی آر ڈی او نے نئی نسل کی ’آکاش...

تلنگانہ حکومت نئی برقی پالیسی لانے کا فیصلہ کرتی ہے

تلنگانہ حکومت نے نئی برقی پالیسی لانے کا فیصلہ...

راہل گاندھی کی مرکزی حکومت سے مہاجر مزدوروں کے اکاؤنٹس میں رقم جمع کرانے کی اپیل

راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا ’’مہاجر کارکن ایک بار پھر ہجرت کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مرکزی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کے بینک کھاتوں میں رقم جمع کرائے۔ لیکن کورونا پھیلانے کیلئے عوام کو قصوروار قرار دینے والی سرکار کیا ایسا عوامی امدادی قدم اٹھائے گی؟‘‘

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے منگل کے روز لاک ڈاؤن کی وجہ سے وطن واپس جانے پر مجبور مہاجر محنت کشوں کے ساتھ ذمہ داری سے نمٹنے کی حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مالی پریشانی نہ ہو لہذا ان کے بینک اکاؤنٹس میں چھ ہزار روپے فوری طور پر جمع کرائے جانے چاہئے۔

مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا ’’مہاجر کارکن ایک بار پھر ہجرت کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مرکزی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کے بینک کھاتوں میں رقم جمع کرائے۔ لیکن کورونا پھیلانے کیلئے عوام کو قصوروار قرار دینے والی سرکار کیا ایسا عوامی امدادی قدم اٹھائے گی؟‘‘

حکومت حزب اختلاف کے رہنماؤں کی تجاویز کا مذاق اڑاتی ہے

کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ حکومت حزب اختلاف کے رہنماؤں کی بات نہیں سنتی ہے اور ان کی تجاویز کا مذاق اڑاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال فروری میں جب مسٹر گاندھی نے کورونا وبا کے بارے میں متنبہ کیا تھا تو حکومت نے پہلے ان کا مذاق اڑایا اور ’نمستے ٹرمپ‘ مناکر مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومت کو زبردستی گرادیا۔ پھر بغیر بتائے مہلک لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن انتظامات کئے بغیر غریب مزدوروں کا کیا بنے گا… حکومت نے ایک بار پھر نہیں سنی اور اس کے نتیجے میں ملک کو آزادی کے بعد سب سے بڑا انسانی المیہ دیکھنے کو ملا۔ کانگریس نے مہاجر مزدوروں کے لئے ریلوے کا کرایہ جمع کرایا اور بسوں کا انتظام کیا تو پہلے اس کا مذاق اڑایا گیا اور پھر کہیں ریلوے کا انتظام کیا گیا۔

ترجمان نے الزام لگایا کہ گزشتہ ایک سال میں عوام کو کورونا ٹیکس کے نام پر لوٹا گیا لیکن نہ ہی اسپتال، نہ ڈاکٹروں، نہ ہی وینٹی لیٹر، نہ ویکسین، نہ دوائیں اور نہ ہی 6000 روپے کی رقم اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی۔