دہلی میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ کے کمرے میں آگ پر قابو پا لیا گیا

 دہلی کے جودھ پور ہاؤس میں وزیر اعلی بھجن...

بھارت نے نئی نسل کی آکاش میزائل کا کامیاب تجربہ کیا

ڈی آر ڈی او نے نئی نسل کی ’آکاش...

تلنگانہ حکومت نئی برقی پالیسی لانے کا فیصلہ کرتی ہے

تلنگانہ حکومت نے نئی برقی پالیسی لانے کا فیصلہ...

بہار کے سابق وزیر میوالال چودھری کا کورونا انفیکشن سے انتقال

میوالال چودھری تین دن پہلے ہی کورونا مثبت ہوئے تھے۔ سانس لینے میں دشواری کے بعد انہیں پٹنہ کے پارس اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ تاہم ان کی صحت میں بہتری نہیں آ رہی تھی۔ علاج کے دوران پیر کی صبح ان کا انتقال ہوگیا۔

پٹنہ: بہار کے سابق وزیر اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے تارا پور سے ایم ایل اے میوالال چودھری کا آج صبح کورونا انفیکشن کے باعث انتقال ہوگیا۔ وہ 68 برس کے تھے۔

کنبے کے ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ مسٹر چودھری تین دن پہلے ہی کورونا مثبت ہوئے تھے۔ سانس لینے میں دشواری کے بعد انہیں پٹنہ کے پارس اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ تاہم ان کی صحت میں بہتری نہیں آ رہی تھی۔ علاج کے دوران پیر کی صبح ان کا انتقال ہوگیا۔

واضح رہے کہ مسٹر میوالال چودھری، 4 جنوری 1953 کو بہار کے ضلع منگیر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے زرعی علوم میں پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ راجندر زرعی یونیورسٹی، پوسا، سمستی پور اور بہار زرعی یونیورسٹی، سبور، بھاگل پور کے وائس چانسلر تھے۔ وہ بہار میں زرعی ترقی کے لئے روڈ میپ کے مسودہ کمیٹی کے ممبر بھی تھے۔

مسٹر میوالال چودھری کی سیاسی زندگی کا آغاز

مسٹر چودھری نے مرکزی حکومت میں باغبانی کے کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے باغبانی مشن اور چھوٹے آبپاشی پروجیکٹ کے ساتھ قومی بانس مشن کا مسودہ تیار کرنے میں بھی مدد کی۔ اس کے بعد انہوں نے سال 2010 میں فعال سیاست میں قدم رکھا تھا۔

مسٹر چودھری نے جے ڈی یو کے ٹکٹ پر 2015 بہار کا اسمبلی انتخابات لڑا اور ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) کے امیدوار شکونی چودھری کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ بہار زرعی یونیورسٹی میں جونیئر سائنسدان اور پروفیسر کی تقرری میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد ہونے کے بعد انہیں 2017 میں جے ڈی یو سے نکال دیا گیا تھا۔ بعد میں وہ جے ڈی یو میں واپس آگئے تھے۔

بہار میں 2020 کے اسمبلی انتخابات میں، جے ڈی یو نے انہیں منگیر ضلع کے تارا پور سے اپنا امیدوار بنایا اور وہ فاتح بھی ہوئے۔ انہیں وزیر تعلیم بنایا گیا تھا لیکن ماضی میں ان پر لگائے گئے الزامات کے سلسلے میں اپوزیشن کی مخالفت کے بعد انہیں وزیر کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔